۔ذہنی ہنگامہ میں آج شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی سمجھ نہیں پارہی تھی آخر کیا الجھن ہے جس نے مجھے اتنا جھنجھلا رکھا۔صبح سویرے ایڈمن بلاک میں محترمہ شوآف کا گزشتہ روز کا بقیہ منظرنامہ دماغ کی ساری بند کھڑکیاں کھولنے کہ لئے کافی تھا۔اف اس قدر سے زور سے تقریر کرتیں کہ احسن اقبال کو بھی پیچھے چھوڑ دیتیں۔اور بولتے ہر ایک چہرے کہ تاثرات کا بخوبی جائزہ لیتیں اور اگر کوئی ہمہ تن گوش ہو کر انکی چھلبلی کہانیاں نہ سنتا تو بس اسے تو تسبیح پکڑ لینی چاہیے کیونکہ اس نے ایک علم اور عقل کی دیوی کو نظرانداز کرنے کی جسارت کی ہے۔ یارب زندگی کا بھی ایک عجب دستور ہے یہاں ہر کوئی اس دوڑ میں لگا ہے کہ ریس میں بہترین کھلاڑی ثابت ہونے کہ ساتھ ساتھ مخالف پر ایسی کاری ضرب لگائے کہ حریف کو دوبارہ اپنی جگہ پر جمنے کے لئے ایک مدت انتظار کرنا پڑے۔مگر دوسر...
اشاعتیں
غزل سلگتارہا گیلی لکڑی کی مانند
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
سلگتا رہا میں گیلی لکڑی کی مانند لطف لیتے رہے رخ کی حدت سےاحباب چلو جانے بھی دو اب یہ طرز جفا پل دو پل کا ملن باقی سب ہے سراب ناوک مژگاں پہ ذرا قابو رہے گلہ نہ کیجئے گا پھر یوم حساب گیسو سے الجھتی رہی سانسوں کی ڈور جھلک دیکھ کر بجنے لگے طاؤس و رباب نکالو اسے برپا بزم میں جب یہ ہوا شور فقط آنکھ کے اشارے سے آیا جواب دھیرے سے بولو اب نہ ٹوٹے یہ خواب ...
کیوں ہوتی ہے ایسی ماں!
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
ماں کیوں ہوتی ہے ایسی ماں! جب بھی کوئی مرد اپنی زندگی میں کوئی عورت شامل کرتا ہے تو وہ بہت سے دعوے کرتا ہے۔کیا وہ اپنے وعدوں میں اتنا سچا بھی ہوتا ہے۔زین کا تعلق بھی ایک ایسے ہی گھرانے سے تھا۔اس کے بابا ایک انتہائی نفیس بزنس مین تھے مگر رعب و دبدبہ ان کی نگاہوں سے جھلکتا۔بچوں کے لئے انتہائی شفیق انسان تھے۔ مگر ان کی موجودگی میں شاہ ولا میں سانپ سونگھ جاتا۔ہر کوئی اپنے اپنے کمروں میں دبکا رہتا۔ان کے گھر سے باہر دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچہ پارٹی وہ دھماچوکڑی مچاتی کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔بڑی تائی کچن سے نعرہ لگاتی۔ارے خاموش ہو جاو مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگتی...