نگاہوں کا پیام
غزل لاکھ سمجھایا دل کو پھر بھی نیلام ہوگئے قصے ہماری نگاہوں کے زبان زدعام ہوگئے تیری دلربائی کے رنگ شامل خیام ہوگئے گلے سب کے سب منتشر لب بام ہوگئے سمجھا تھا رقیب خالی اس کے وار گئے ...