نگاہوں کا پیام
غزل
لاکھ سمجھایا دل کو پھر بھی نیلام ہوگئے
قصے ہماری نگاہوں کے زبان زدعام ہوگئے
تیری دلربائی کے رنگ شامل خیام ہوگئے
گلے سب کے سب منتشر لب بام ہوگئے
سمجھا تھا رقیب خالی اس کے وار گئے
بتاو ذرا اسےہم تو شبنمی لہجے پہ ہار گئے
ٹوٹےجو ضبط سے تارے شب آلام ہوگئے
کوہ وبیاباں بھی اب تو برسر پیکار ہو گئے
مدعا زیست تو فقط اک دید تھامہر
کون جانےکتنے تیر جگر کے پار گئے
سعدیہ مہر ہاشمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں