انا کا مینار
کبھی ان لبوں کی کپکپاہٹ کو تم نے محسوس کیا جو ہر دکھ کو ہنس کر پی لیتے ہیں جو امڈ کر آنے والے سارے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں لپیٹ کر چٹان کی مانند کھڑا ہو جاتا ہے۔کبھی اس شخص کو بغور دیکھنا کسطرح وہ حوصلہ کی چٹان جب اپنے آپ سے ملتی تو کسطرح ریزہ ریزہ ہو کر ڈھیر ہوجاتی ہے۔کیسے اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ہار جاتی ہے؟کیسے موم کی مانند گھل جاتی ہے جوزبان پر حرف شکایت آنا بھی چاہے تو وہ بھوکے بھیڑئیے کی مانند خود ہی اس جرات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔آخر کیوں اپنی انا کے گنبد کو وہ ہمیشہ اونچا رکھنا چاہتے ہیں ۔بہترین بننے کے چکر میں آپ تنہا ہوتے چلے جاتے ہیں ۔بخدا اپنے دکھ میں کوئی ایسا کندھا تلاش کریں جس پر سر رکھ کر رودیں۔کیونکہ آپ کا دل اور دماغ کوئی کوڑا دان نہیں جس میں غیرضروری اشیاء بھرتے جائیں ۔ورنہ اک روز اس کوڑا دان غلاظت آپ کو ختم کردے گی۔چلو آج ہی سے عہد کرتے ہیں کہ اپنے لئے جئیے گے ۔دوست بنائیں گے اپنے جذبات کو خوبصورت رخ پر ڈالیں اگر کچھ بھی نہ بن پڑا ہم قلم سے رشتہ بنائیں گے۔یقین جانیں اس سے نہ صرف آپ مطمئن ہوں گے بلکہ آپ کی ذہنی بالیدگی بھی ہوگی۔جب آپ ایک صحت مند دماغ رکھیں گے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو محنت کرنے اور کامیاب ہونے سے روک نہیں سکتی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں