انا کا مینار کبھی ان لبوں کی کپکپاہٹ کو تم نے محسوس کیا جو ہر دکھ کو ہنس کر پی لیتے ہیں جو امڈ کر آنے والے سارے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں لپیٹ کر چٹان کی مانند کھڑا ہو جاتا ہے۔کبھی اس شخص کو بغور دیکھنا کسطرح وہ حوصلہ کی چٹان جب اپنے آپ سے ملتی تو کسطرح ریزہ ریزہ ہو کر ڈھیر ہوجاتی ہے۔کیسے اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ہار جاتی ہے؟کیسے موم کی مانند گھل جاتی ہے جوزبان پر حرف شکایت آنا بھی چاہے تو وہ بھوکے بھیڑئیے کی مانند خود ہی اس جرات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔آخر کیوں اپنی انا کے گنبد کو وہ ہمیشہ اونچا رکھنا چاہتے ہیں ۔بہ...
اشاعتیں
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
۔ذہنی ہنگامہ میں آج شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی سمجھ نہیں پارہی تھی آخر کیا الجھن ہے جس نے مجھے اتنا جھنجھلا رکھا۔صبح سویرے ایڈمن بلاک میں محترمہ شوآف کا گزشتہ روز کا بقیہ منظرنامہ دماغ کی ساری بند کھڑکیاں کھولنے کہ لئے کافی تھا۔اف اس قدر سے زور سے تقریر کرتیں کہ احسن اقبال کو بھی پیچھے چھوڑ دیتیں۔اور بولتے ہر ایک چہرے کہ تاثرات کا بخوبی جائزہ لیتیں اور اگر کوئی ہمہ تن گوش ہو کر انکی چھلبلی کہانیاں نہ سنتا تو بس اسے تو تسبیح پکڑ لینی چاہیے کیونکہ اس نے ایک علم اور عقل کی دیوی کو نظرانداز کرنے کی جسارت کی ہے۔ یارب زندگی کا بھی ایک عجب دستور ہے یہاں ہر کوئی اس دوڑ میں لگا ہے کہ ریس میں بہترین کھلاڑی ثابت ہونے کہ ساتھ ساتھ مخالف پر ایسی کاری ضرب لگائے کہ حریف کو دوبارہ اپنی جگہ پر جمنے کے لئے ایک مدت انتظار کرنا پڑے۔مگر دوسر...
غزل سلگتارہا گیلی لکڑی کی مانند
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
سلگتا رہا میں گیلی لکڑی کی مانند لطف لیتے رہے رخ کی حدت سےاحباب چلو جانے بھی دو اب یہ طرز جفا پل دو پل کا ملن باقی سب ہے سراب ناوک مژگاں پہ ذرا قابو رہے گلہ نہ کیجئے گا پھر یوم حساب گیسو سے الجھتی رہی سانسوں کی ڈور جھلک دیکھ کر بجنے لگے طاؤس و رباب نکالو اسے برپا بزم میں جب یہ ہوا شور فقط آنکھ کے اشارے سے آیا جواب دھیرے سے بولو اب نہ ٹوٹے یہ خواب ...