احساس ذمہ داری
آئی سی ایس کلاس ہمیشہ سے انتہائی شرارتی کلاس ہوتی ہے۔ وہاں آپ کو ہر طرح کا ٹیلینٹ دیکھنے کو ملے گا موسیقار سے لے کرتب دکھانے والے تک غرض کہیں کمی نہیں ۔مزے کی بات ہے یہ خود اساتذہ کو بھلے جتنا مرضی ستا لیں مگر جہاں بات کسی اور کی ہو وہیں محافظ کی صورت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔اس کلاس کی سب سے بڑی خوبصورتی بظاہر لاپرواہ مگر دل میں ایک شدید نازک دل رکھتے ہیں ۔آج پورےے دن کے تھکا دینے والے دن کے بعد جب آٹھویں لیکچر کے بعد ستر طلباء کی کلاس میں قدم رکھا تو اک لمحے کو تو جی چاہاسب کچھ چھوڑ چھاڈ خاموشی سے لیکچر لوں اور گھر کی راہ لوں مگر بھانت بھانت کی آوازوں سےمیرے اندر کی ٹیچر نے انگڑائی لی ۔ایک سخت تنبیہہ نگاہ کلاس پر دوڑائی بہت سے غریبوں کے اوپر کے سانس اوپر رہ گئےاور کچھ نگاہ بچاکر نشستوں کے ضبط کا امتحان لینے لگے اور میں نے بھی کمال برق رفتاری سے وائٹ بورڈ پر آج کا ٹیسٹ لکھا۔بہت سوں نے لکھا بہت سوں نے جان چھڑائی۔ ہم نے تو جان چڑھائی بھلے ٹیچر کی ہو مغز کھپائی۔ کلاس میں دوسرے مذاہب کے بچے بھی علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔لیکچر کا وقت ختم ہونے کہ بعد شریر طلباء بستے بغلمیں دبائے اپنے رشتے کو چل دیئے ایک بچے نے نکلتے ہوئے لہک کر ڈسٹر اٹھایا کہ اپنے جوتے صاف کرلے تو ایک بچے نےبرق رفتاری سے ڈسٹر پکڑا اور کہا کی یار مت کرو اس سے ہم بورڈ پر اللہ کا لکھا ہوا نام مٹاتے ہیں ۔ایک لمحے کے لیے کو میری سوچیں منجمند ہوگئیں اور دوسرے ہی لمحے یہ احساس میری رگ رگ میں سرایت کرگیا ایک مسلمان ہوتے ہوئے ہم کس قدر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتےہیں ۔اللہ تعالی ہمیں ایک مسلمان ہونے کے ناطے اپنی زمہ داری ادا کرنے کی توفیق دے آمین
کیونکہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں