میری شدتوں کو کوئی نام دے
غزل
میری شدتوں کو کوئی نام دے
تشنگی مٹادےکوئی ایسا جام دے
زلف کہ سائے میں بسرکوئی شام ہو
پھر مسکرانا تیرا دروبام کو نکھار دے
آنگن میں پر پھیلائے دہشت دشت کو
تجھ ماہ رو کی اک جھلک بچھاڑ دے
سنا ہے ان سے وابستگی ہے ہر درد کی دوا
پل بھر کو سہی اس بے خود کو بھی سدھار دے
ہجر کہ لمحے بہت طویل ہوئے
مہر اب ملن کہ بھی کوئی آثار دے
بقلم( سعدیہ ہاشمی )
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں