نینوں سے ہاری
جو دو نین دا پیالہ پی نہ سکا
دشت میں خاک جو ہو نہ سکا
پھر ہجرکی تلخی سہہ نہ سکا
آزمائش پر گر وہ اتر نہ سکا
گر پھر بھی دعوی محبت ہے تو
دربار عشق کا ہر سکہ کھوٹا ہے
جور سے جگر جب چھلنی ہو
طور پر پھر کیوں نہ تجلی ہو
دید کی پھر خواہش مچلی
تک تک رستہ ہوگئی جھلی
بے بس سانسیں روح اور قلب
زاہد تو کیا جانے رند کی طلب
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں