رخ پر بکھرتے رنگوں کی برسات کو
غزل
جب بزم میں وہ جلوہ آرا ہو
تب عشق کی ع کا نقارہ ہو
دیکھ سیاہ چادر پر پھر تاروں کی بارات کو
رخ پر بکھرتے رنگوں کی برسات کو
سن لے ارض وسماء کی پکار تو
نہاں خانوں میں پھر وہ آشکار ہو
دشت سی خاموشی کو اب توڑ دے
اے ستمگر!ستم کی یہ طرز چھوڑ دے
ہر سو دیکھے گا تو اسکی کرامات کو
خرد پہ پڑے قفل تو ذرا کھول دے
چار سو پھر انوار کی برکات ہو
کھلے گا پھر تجھ پر اسرار اللہ ہو
بقلم ( سعدیہ مہر ہاشمی )
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں