جو دو نین دا پیالہ پی نہ سکا دشت میں خاک جو ہو نہ سکا پھر ہجرکی تلخی سہہ نہ سکا آزمائش پر گر وہ اتر نہ سکا گر پھر بھی دعوی محبت ہے تو دربار عشق کا وہ سکہ کھوٹا ہے جور سے جگر جب چھلنی ہو طور پر پھر کیوں نہ تجلی ہو دید کی پھر خواہش مچلی تک تک رستہ ہوگئی جھلی بے بس سانسیں روح اور قلب زاہد تو کیا جانے رند کی طلب ...
انا کا مینار کبھی ان لبوں کی کپکپاہٹ کو تم نے محسوس کیا جو ہر دکھ کو ہنس کر پی لیتے ہیں جو امڈ کر آنے والے سارے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں لپیٹ کر چٹان کی مانند کھڑا ہو جاتا ہے۔کبھی اس شخص کو بغور دیکھنا کسطرح وہ حوصلہ کی چٹان جب اپنے آپ سے ملتی تو کسطرح ریزہ ریزہ ہو کر ڈھیر ہوجاتی ہے۔کیسے اپنے آپ سے لڑتے لڑتے ہار جاتی ہے؟کیسے موم کی مانند گھل جاتی ہے جوزبان پر حرف شکایت آنا بھی چاہے تو وہ بھوکے بھیڑئیے کی مانند خود ہی اس جرات کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔آخر کیوں اپنی انا کے گنبد کو وہ ہمیشہ اونچا رکھنا چاہتے ہیں ۔بہ...
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں