۔ذہنی ہنگامہ                                  

میں آج شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھی سمجھ  نہیں پارہی تھی آخر کیا الجھن ہے جس نے مجھے اتنا جھنجھلا رکھا۔صبح سویرے ایڈمن بلاک میں محترمہ شوآف کا  گزشتہ روز کا بقیہ منظرنامہ دماغ کی ساری بند کھڑکیاں کھولنے کہ لئے کافی تھا۔اف اس قدر سے زور سے تقریر کرتیں کہ احسن اقبال کو بھی پیچھے چھوڑ دیتیں۔اور بولتے ہر ایک چہرے کہ تاثرات کا بخوبی جائزہ لیتیں اور اگر کوئی ہمہ تن گوش ہو کر انکی چھلبلی کہانیاں نہ سنتا تو بس اسے تو تسبیح پکڑ لینی چاہیے کیونکہ اس نے ایک علم اور عقل کی دیوی کو نظرانداز کرنے کی جسارت کی ہے۔ یارب زندگی کا بھی ایک عجب دستور ہے یہاں ہر کوئی اس دوڑ میں لگا ہے کہ ریس میں بہترین کھلاڑی ثابت ہونے کہ ساتھ ساتھ مخالف پر ایسی کاری ضرب لگائے کہ حریف کو دوبارہ اپنی جگہ پر جمنے کے لئے ایک مدت انتظار کرنا پڑے۔مگر دوسری طرف وہی عظیم دھرتی کے جانشین ہمیشہ دوسرے کے لئے آسانیاں بانٹنے کا درس دیتے دکھائی دیتے ہیں ہر وقت مسکراتے یہ چہرے اندر سے کتنے  مکروہ اور بخیل ہوتے ہیں۔ساری زندگی ایسے لوگ اپنی اس پہچان کو لوگوں سے چھپاتے پھرتے ہیں مگر کچھ حقیقتیں جلد سامنے آتی ہیں اور کچھ بدیر۔بہرحال حقیقت کا پردہ جب چاک ہوتا ہے تو یہی لوگ پھر ڈھے جاتے ہیں اور بے بسی کا یہ عالم  ہوتا ہے کہ اپنے قدموں پر پھر کبھی کھڑے بھی نہیں ہوپاتے۔ذلت ورسوائی کی سیاہی ان کہ چہرے پر مل دی جاتی ہے اور یہ ہی ان کا مقدر ہوتی ہے۔
بے شک میرے رب نے کہا                                         
        وتعز من تشاء وتزل من تشاء                            
از قلم:سعدیہ ہاشمی 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزل

ہجر کی پیاس