کیوں ہوتی ہے ایسی ماں!

 

                                        ماں                                          

کیوں ہوتی ہے ایسی ماں!                               
جب بھی کوئی مرد اپنی زندگی میں کوئی عورت شامل کرتا ہے تو وہ بہت سے دعوے کرتا ہے۔کیا وہ اپنے وعدوں میں اتنا سچا بھی ہوتا ہے۔زین کا تعلق بھی ایک ایسے ہی گھرانے سے تھا۔اس کے بابا ایک انتہائی نفیس بزنس مین تھے مگر رعب و دبدبہ ان کی نگاہوں سے جھلکتا۔بچوں کے لئے انتہائی شفیق انسان تھے۔ مگر ان کی موجودگی میں شاہ ولا میں سانپ سونگھ  جاتا۔ہر کوئی اپنے اپنے کمروں میں دبکا رہتا۔ان کے گھر سے باہر دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچہ پارٹی وہ دھماچوکڑی مچاتی کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔بڑی تائی کچن سے نعرہ لگاتی۔ارے خاموش ہو جاو مگر کسی کے کان پر جوں نہ رینگتی خود ہی منہ ہی میں میں بڑبڑائے نہ جانے ماوں نے کیا کھا کر پیدا کیا کہ کسی کل چین نہیں ۔زین کی اماں سکندر شاہ کہ نام سے ہی کانپ جاتی تھی۔اچھا بھلا درست کام ان کی موجودگی میں الٹ ہوجاتا۔ پھر کیا پورے گھر کی طائرانہ نگاہیں ان کا طواف کرتیں۔وہ مزید اپنی جگہ چور ہوجاتیں۔زین کو ان پر مزید غصہ آتا کہ آخر وہ کیوں نہیں اپنے حق کے لئے بولتی۔ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر آس کا دل حلق میں اٹکا مگر وہ لڑھکنے کے سوا کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ 

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

غزل

ہجر کی پیاس