در کی فقیری
غزل
ہوا شوق آج ان کی پلکوں کی اسیری کا چلو لیتے ہیں مزہ تیرے در کی فقیری کا
پہلوئےرقیب میں نگاہ جاں سے تیر چلا کر
آو پاکیزہ ارمانوں کے انبار دفنانے چلئیے
دشت میں خوشیوں کے دیپ جلاتے چلئے
عشق کی حدت تو پھر طور بھی نہ سہہ سکا
چلو جست لگاو اور مثل پروانہ جلتے چلئیے
ستمگر توڑ دیا پھر تو نے آخر بھرم میرا
خوابوں کی کرچیاں اٹھائے گھر کو چلئیے
مر سکتے ہو کیا اس نے میری وفا پر سوال داغا
مہر چلو پھر تماشائے رقص بسمل کرتے چلئیے
بقلم ( سعدیہ مہر ہاشمی )
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں