در کی فقیری
غزل ہوا شوق آج ان کی پلکوں کی اسیری کا چلو لیتے ہیں مزہ تیرے در کی فقیری کا پہلوئےرقیب میں نگاہ جاں سے تیر چلا کر آو پاکیزہ ارمانوں کے انبار دفنانے چلئیے دشت میں خوشیوں کے دیپ جلاتے چلئے ...