اشاعتیں

مئی, 2021 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

میری شدتوں کو کوئی نام دے

  غزل                میری شدتوں کو کوئی نام دے تشنگی مٹادےکوئی ایسا جام دے            زلف کہ سائے میں بسرکوئی شام ہو پھر مسکرانا تیرا دروبام کو نکھار دے آنگن میں پر پھیلائے دہشت دشت کو تجھ ماہ رو کی اک جھلک بچھاڑ دے سنا ہے ان سے وابستگی ہے ہر درد کی دوا پل بھر کو سہی اس بے خود کو بھی سدھار دے ہجر کہ لمحے  بہت طویل  ہوئے مہر اب ملن کہ بھی کوئی آثار دے بقلم( سعدیہ ہاشمی )

احساس ذمہ داری

  آئی سی ایس کلاس ہمیشہ سے انتہائی شرارتی کلاس ہوتی ہے۔ وہاں آپ کو ہر طرح کا ٹیلینٹ دیکھنے کو ملے گا موسیقار سے لے کرتب دکھانے والے تک غرض کہیں کمی نہیں ۔مزے کی بات ہے یہ خود اساتذہ کو بھلے جتنا مرضی ستا لیں مگر جہاں بات کسی اور کی ہو وہیں محافظ کی صورت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔اس کلاس کی سب سے بڑی خوبصورتی بظاہر لاپرواہ مگر دل میں ایک شدید نازک دل رکھتے ہیں ۔آج پورےے دن کے تھکا دینے والے دن کے بعد جب آٹھویں لیکچر کے بعد ستر طلباء کی کلاس میں قدم رکھا تو اک لمحے کو تو جی چاہاسب کچھ چھوڑ چھاڈ خاموشی سے لیکچر لوں اور گھر کی راہ لوں مگر بھانت بھانت کی آوازوں سےمیرے اندر کی ٹیچر نے انگڑائی لی ۔ایک سخت تنبیہہ نگاہ کلاس پر دوڑائی بہت سے غریبوں کے اوپر کے سانس اوپر  رہ گئےاور کچھ نگاہ بچاکر نشستوں کے ضبط کا امتحان لینے لگے اور میں نے بھی کمال برق رفتاری سے وائٹ بورڈ پر آج کا ٹیسٹ لکھا۔بہت سوں نے لکھا بہت سوں نے جان چھڑائی۔ ہم نے تو جان چڑھائی بھلے ٹیچر کی ہو مغز کھپائی۔ کلاس میں دوسرے مذاہب کے بچے بھی علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔لیکچر کا وقت ختم ہونے کہ بعد شریر طلباء بستے بغل...

نینوں سے ہاری

جو دو نین دا پیالہ پی نہ سکا دشت میں خاک جو ہو نہ سکا   پھر  ہجرکی تلخی سہہ نہ سکا                  آزمائش پر گر وہ اتر نہ سکا                 گر پھر بھی دعوی محبت ہے تو دربار عشق کا ہر سکہ کھوٹا ہے جور سے  جگر جب  چھلنی ہو                  طور پر پھر کیوں نہ تجلی ہو                      دید کی پھر خواہش مچلی   تک تک  رستہ ہوگئی   جھلی بے بس سانسیں روح اور قلب زاہد تو کیا جانے رند کی طلب