غزل
اشاعتیں
میری شدتوں کو کوئی نام دے
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
غزل میری شدتوں کو کوئی نام دے تشنگی مٹادےکوئی ایسا جام دے زلف کہ سائے میں بسرکوئی شام ہو پھر مسکرانا تیرا دروبام کو نکھار دے آنگن میں پر پھیلائے دہشت دشت کو تجھ ماہ رو کی اک جھلک بچھاڑ دے سنا ہے ان سے وابستگی ہے ہر درد کی دوا پل بھر کو سہی اس بے خود کو بھی سدھار دے ہجر کہ لمحے بہت طویل ہوئے مہر اب ملن کہ بھی کوئی آثار دے بقلم( سعدیہ ہاشمی )
احساس ذمہ داری
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
آئی سی ایس کلاس ہمیشہ سے انتہائی شرارتی کلاس ہوتی ہے۔ وہاں آپ کو ہر طرح کا ٹیلینٹ دیکھنے کو ملے گا موسیقار سے لے کرتب دکھانے والے تک غرض کہیں کمی نہیں ۔مزے کی بات ہے یہ خود اساتذہ کو بھلے جتنا مرضی ستا لیں مگر جہاں بات کسی اور کی ہو وہیں محافظ کی صورت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔اس کلاس کی سب سے بڑی خوبصورتی بظاہر لاپرواہ مگر دل میں ایک شدید نازک دل رکھتے ہیں ۔آج پورےے دن کے تھکا دینے والے دن کے بعد جب آٹھویں لیکچر کے بعد ستر طلباء کی کلاس میں قدم رکھا تو اک لمحے کو تو جی چاہاسب کچھ چھوڑ چھاڈ خاموشی سے لیکچر لوں اور گھر کی راہ لوں مگر بھانت بھانت کی آوازوں سےمیرے اندر کی ٹیچر نے انگڑائی لی ۔ایک سخت تنبیہہ نگاہ کلاس پر دوڑائی بہت سے غریبوں کے اوپر کے سانس اوپر رہ گئےاور کچھ نگاہ بچاکر نشستوں کے ضبط کا امتحان لینے لگے اور میں نے بھی کمال برق رفتاری سے وائٹ بورڈ پر آج کا ٹیسٹ لکھا۔بہت سوں نے لکھا بہت سوں نے جان چھڑائی۔ ہم نے تو جان چڑھائی بھلے ٹیچر کی ہو مغز کھپائی۔ کلاس میں دوسرے مذاہب کے بچے بھی علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔لیکچر کا وقت ختم ہونے کہ بعد شریر طلباء بستے بغل...
نینوں سے ہاری
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
جو دو نین دا پیالہ پی نہ سکا دشت میں خاک جو ہو نہ سکا پھر ہجرکی تلخی سہہ نہ سکا آزمائش پر گر وہ اتر نہ سکا گر پھر بھی دعوی محبت ہے تو دربار عشق کا ہر سکہ کھوٹا ہے جور سے جگر جب چھلنی ہو طور پر پھر کیوں نہ تجلی ہو دید کی پھر خواہش مچلی تک تک رستہ ہوگئی جھلی بے بس سانسیں روح اور قلب زاہد تو کیا جانے رند کی طلب